مرشدآباد یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے قیام کا مطالبہ
نیوزٹوڈے اردو:مرشدآباد کی سرزمین اردو زبان و ادب کا ایک تابناک گہوارہ رہ چکا ہے جہاں آج بہت اردو پڑھنے لکھنے والوں کی ایک معقول تعداد موجود ہے۔ یہاں اردو میڈیم اسکول بھی ہیں اورسبھاش چندر بوس سنٹنری کالج میں شعبہ اردو بھی موجود ہے۔ لہٰذا گزشتہ برس جب مرشدآباد یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا تو امید کی جارہی تھی کہ یہاں شعبہ اردو بھی قائم ہوجائے گا۔ مگر اہل اردو کو یہاں بھی مایوسی ہی ہاتھ لگی۔ یونیورسٹی کے اعلان کے مطابق یہاں فی الحال16 مضامین میں پوسٹ گریجوئیشن کی سہولت حاصل ہے۔مرشدآباد یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے قیام کے لئے جب کہیں سے کوئی آواز نہیں آئی تو اہل مرشدآباد نے خود اس معاملے میں پہل کی اور گزشتہ 12نومبر کو ایک مقامی وفد نے مرشدآباد یونیورسٹی کی وائس چانسلر سے ملاقات کر انہیں ایک میمورنڈم کی شکل میں اپنے مطالبات سے آگاہ کیا۔اس وفد میں سید رضا علی میرزا، سید آصف عباس میرزا، اطہر آفاق مرزا، صبا میرزا اور سونیا میرزا شامل تھے۔
ہمیں یوٹیوب پر سبسکرائب کریں
ان کے علاوہ دیگر حضرات و طلبہ و طالبات بھی یونیورسٹی گیٹ کے باہر موجود تھے۔وائس چانسلر صاحبہ کو اس وفد نے بتایا کہ اگر مرشدآباد یونیورسٹی میں شعبہ اردو قائم ہوتا ہے تو یہ نہ صرف مرشدآباد کے طلبہ و طالبات کے لئے بلکہ شمالی بنگال کے اردو میڈیم اسٹو ڈنٹس کے لئے بھی نیک فعال ثابت ہوگا، کیونکہ شمالی بنگال میں خصوصا اتر دیناجپور اور مالدہ ضلع میں ایسے کئی ڈگری کالج موجود ہیں جہاں اردو آنرس و پاس کورس کے طلبہ و طالبات کی اچھی خاصی تعداد موجود ہے۔ شمالی بنگال یونیورسٹی میں چونکہ اردو کا شعبہ موجود نہیں ہے لہٰذا ان اسٹوڈنٹس کو ایم اے کی تعلیم کے لئے کلکتہ کا رخ کرنا پڑتا ہے جو معاشی طور پر کمزور طبقہ کے لئے نہایت ہی دشوار کن مرحلہ ہوتا ہے۔
فیس بک پر فولو کریں
مرشدآباد چونکہ شمالی بنگال سے تقریباً ملحق ہے اور آمد و رفت کے اعتبار سے بھی سارے بنگال سے جڑا ہے لہٰذا یہاں طلبہ و طالبات بہ آسانی اور کم اخراجات میں اعلی تعلیم کے مراحل طے کر پائیں گے۔ بہر حال اہل مرشدآباد نے اس سمت مثبت پہل کی ہے نیز آئندہ وہ اپنے مطالبات حکومتی وزرا کے سامنے بھی رکھیں گے۔ لہٰذا اردو دانشوران اور خصوصا اردو اداروں کا یہ فرض ہے کہ وہ اس تحریک میں شامل ہوں اور اہل مرشدآباد کا بھر پور تعاون کریں۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں